فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

صغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکارپانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگارکچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمارتبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدارگرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی باباآئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا

About this couplet

This is couplet 35 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۵ / ۱۱۴