فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

باتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریرمنزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔشب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیرجلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیرمقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کوجس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو

About this couplet

This is couplet 90 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۰ / ۱۱۴