کلامِ آرزوردیف الف
دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا
۱
دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیاآسان کام آپ نے مشکل بنا دیا
۲
ہر سانس ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برقکیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا
۳
اس حسن ظن پہ ہم سفروں کے ہوں پا بہ گلمجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا
۴
اندھا ہے شوق پھر نظر امکان پر ہو کیوںکام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا
۵
دوڑا لہو رگوں میں بندھی زندگی کی آسیہ بھی برا نہیں ہے جو بسمل بنا دیا
۶
غرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کارمجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا
۷
اس شان عاجزی کے فدا جس نے آرزوؔہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
۴ / ۷۰