کلامِ آرزوردیف الف

وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا

۱

وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھاکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھا

۲

حسن ہے مشغلۂ ظلم کو گہرا پردہپس پردہ ہے اندھیرا مجھے معلوم نہ تھا

۳

عشق وہ شے ہے کہ چرکے بھی مزہ دیتے ہیںورنہ قاتل ہیں حسیں کیا مجھے معلوم نہ تھا

۴

دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرارکل یہ کچھ اور کہے گا مجھے معلوم نہ تھا

۵

جھوٹی امیدوں نے کیا کیا نہ ہرے باغ لگائےوقت جھونکا ہے ہوا کا مجھے معلوم نہ تھا

۶

جتنے قسمت کے سہارے تھے وہ جھوٹے نکلےہے بندھی مٹھیوں میں کیا مجھے معلوم نہ تھا

۷

برسوں بھٹکا کیا اور پھر بھی نہ ان تک پہونچاگھر تو معلوم تھا رستہ مجھے معلوم نہ تھا

۸

راز غم فاش نہ ہو اس لئے روکی تھی زباںچپ بھی رہ کر یہی ہوگا مجھے معلوم نہ تھا

۹

دل مزے لیتا ہے جس غم کے وہ ہے کاہش جاںزہر بھی ہوتا ہے میٹھا مجھے معلوم نہ تھا

۱۰

عشق آباد کے ناکے ہی سے رخصت ہوئے ہوشہے یہ دیوانوں کی دنیا مجھے معلوم نہ تھا

۱۱

ہوگا امروز کی صورت میں ظہور فرداوعدہ یوں روز ٹلے گا مجھے معلوم نہ تھا

۱۲

آرزو ہاں بھی حسینوں کی نہیں ہوتی ہےان کی ہر بات ہے دھوکا مجھے معلوم نہ تھا

۵ / ۷۰