کلامِ آرزوردیف الف
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا
جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جادل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا
سانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کاایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا
حکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ کھوسر کو قدم بنا کے چل آنکھوں سے بے بلائے جا
لے وہ دوائے تلخ ہے جس کا اثر ہے خوش گوارپینے میں منہ بنائے جا دل میں مزے اٹھائے جا
جوشش چشم اشک بار مفت نہ رکھ کرم کا بارمیری لگی تو بجھ چکی اپنی لگی بجھائے جا
منزل بے خودیٔ شوق حد نظر سے دور ہےپیچھے پلٹ کے بھی نہ دیکھ آگے قدم بڑھائے جا
اک ہمہ تن ہے پائے ناز اک ہمہ تن سر نیازیہ تو چلن جہاں کا ہے جتنا دے دبائے جا
ظرف شراب تیرے پاس ظروف سرور میرے پاسدل تو نہیں بقدر جام دیکھ نہ منہ پلائے جا
دونوں ہیں ناز دلبری ضد میں ہے جن کی اور لطفایک طرف لگائے جا ایک طرف بجھائے جا
چاند میں گم چکور خود چاند کہیں چھپا ہوااپنی تلاش ختم کر اس کا پتہ لگائے جا
آرزوؔ اس سے کہہ دو صاف غم کا اثر ہے دیر پاجلد ہنسی نہ آئے گی اور ابھی گدگدائے جا
۶ / ۷۰