کلامِ آرزوردیف الف
وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا
۱
وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیاجواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا
۲
قریب صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جھپکا دیارے او ہجر کے مارے تجھے اب تک نہ خواب آیا
۳
دل اس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کس نےنہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا
۴
کوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اس پریہ موت اک خوشنما پردے میں آئی یا شباب آیا
۵
پرانے عہد ٹوٹے ہو گئے پیماں نئے قائمبنا دی اس نے دنیا دوسری جو انقلاب آیا
۶
گزر گاہ محبت بن گئی اک مستقل بستیلگا کر آگ آیا گھر کو جو خانہ خراب آیا
۷
معمہ بن گیا راز محبت آرزوؔ یوں ہیوہ مجھ سے پوچھتے جھجکے مجھے کہتے حجاب آیا
۷ / ۷۰