کلامِ آرزوردیف الف
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھانہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا
نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماںنہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا
ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل افق صد عملنہ کہیں تھے خفی نہ کہیں تھے جلی نہ کوئی تھا نشاں نہ کوئی نام تھا
طلب مدعا ہوس ناروا جو کبھی کچھ کہا وہ ہوئے بے مزہوہ بجائے جزا سخن ناسترا شجر حرص کا ثمر خام تھا
جو لگے آگ بھی تو نہ ہو ضو فشاں جو بجھے شعلہ بھی تو نہ اٹھے دھواںنہ گلہ ہجر کا نہ صلہ عشق کا یہ وہی حکم تھا جو مرے نام تھا
جو بجھی شمع دل تو بڑھی روشنی جو پیا زہر غم تو بڑھی زندگییہ تو ہی اب بتا ذرا منصفی یہ ترا کام تھا کہ مرا کام تھا
سخن آرزوؔ چمن آرزو ختن آرزو عدن آرزویہ در بے صدف قمر با شرف نہ تہ خانہ تھا نہ سر بام تھا
۸ / ۷۰