کلامِ آرزوردیف الف
جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا
۱
جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرناوہیں ہے گنہ پہ ڈٹ کے گناہ کرنا
۲
بتوں سے بڑھا کے میل نباہ کرناجہاں کے سفید کو ہے سیاہ کرنا
۳
سکھایا ہے مجھ کو اس مری بے کسی نےاسی کو ستم کا اس کے گواہ کرنا
۴
لبھانے سے دل کے تھا تو یہ مدعا تھاغریب کی زندگی کو تباہ کرنا
۵
یہی تو ہے ہاں یہی وہ ادائے معصومالگ ہوئی جو سکھا کے گناہ کرنا
۶
جفا سے بھی لیں مزہ نہ وفا کا کیوں کرہمیں تو ہر اک طرح ہے نباہ کرنا
۷
یہ کہتا ہے چشم ہوش ربا کا جادوتجھے ترے ہاتھ سے ہے تباہ کرنا
۸
تری نظر سے سیکھا ہے آہ دل نےجگر میں شگاف ڈال کے راہ کرنا
۹
نظر میں نظر گڑائے ہے یوں وہ ظالمکہ آرزوؔ اب کٹھن ہے اک آہ کرنا
۱۳ / ۷۰