کلامِ آرزوردیف الف

جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا

۱

جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھاہوش جس کا نام ہے وہ بھی جنون خام تھا

۲

ہوش کا ضامن تھا ساقی کیف پرور دل کا شوقجام تھا پاس اور بے اندیشۂ انجام تھا

۳

ختم کرتی جلد کیوں کر زیست کی منزل کو سانسپھیر کوسوں کا تھا لیکن فاصلہ اک گام تھا

۴

جوش شوریدہ سری تھا تا بہ وہم اختیارتھک کے دم ٹوٹا تو پھر آرام ہی آرام تھا

۵

اب کہاں وہ آمد و رفت نفس کی شاہ راہاک کشاکش تھی کہ جس کا زندگانی نام تھا

۶

چونک کر خود منظر ہستی سے آنکھیں پھیر لیںہچکیاں کاہے کو تھیں پوشیدہ اک پیغام تھا

۷

گل ہوا آخر بھڑک کر شعلۂ جوش شبابتھی کف موج حوادث اور چراغ شام تھا

۸

بے جلے کس طرح بنتا شمع پروانے کا دلوہ اسے انجام کیا دیتے جو میرا کام تھا

۹

تم نے خود ناکام رکھ کے اس کی ہمت کی تھی پستآرزوئے بے گنہ پر مفت کا الزام تھا

۱۴ / ۷۰