کلامِ آرزوردیف الف
ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا
۱
ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کاکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا
۲
ڈرے کیا آتش دوزخ سے دیوانہ محمد کاکہ اٹھے شعلے گل کرتا ہے پروانہ محمد کا
۳
ظہور حال و مستقبل سے ماضی کو ملا دوں گامجھے پھر آج دہرانا ہے افسانہ محمد کا
۴
دوئی ایک داغ تہمت، غیرت الزام بے معنیدہ دنیا ہے جسے اپنائے یارانہ محمد کا
۵
شفاعت کی دعا میں وہ ہوا دیتے ہیں پر اس کےجہنم کو بجھا سکتا ہے پروانہ محمد کا
۶
یہاں سے تابہ جنت روک ہے کوئی نہ پرشس ہےجہاں چاہے چلا جا ، بن کے پروانہ محمد کا
۷
رسائی کب ہے اس تک ہوش انساں عقل درسی کیجو اپنی رد میں کہہ جاتا ہے دیوانہ محمد کا
۸
شعاع اس پار شیشے کے ، نظر اس پار شیشے کےجھلک دیکھی کہ پہنچا اڑ کے پروانہ محمد کا
۹
درود اول سخن ہو آرزو ، پھر شعر نعتیہزباں دھو ڈال اگر کہنا ہے افسانہ محمد کا
۱۵ / ۷۰