کلامِ آرزوردیف الف

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

۱

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا

۲

دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئیبیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا

۳

حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندااپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا

۴

کون کہے قسمت پلٹی یا مت پلٹی سیلانی کیرستہ کاٹ کے جانے والا آج ادھر بھی بھول پڑا

۵

حال نہیں جینے کے قابل آس نہیں مرنے دیتیایڑیاں رگڑے آخر کب تک خاک پر اک مقتول پڑا

۶

جتنے حسن آباد میں پہنچے ہوش و خرد کھو کر پہنچےمال بھی تو اتنے کا نہیں اب جتنا کچھ محصول پڑا

۷

راہ وفا تھی ٹیڑھی بگڑی تھی ہر گام افتاد نئیپاؤں کسی کا ٹوٹ گیا اور ہاتھ کسی کا جھول پڑا

۸

باغ میں گلچیں ہے نہ ہے مالی بجلی ہے نہ فلک پہ سحابعہد خزاں میں جلا ہے نشیمن آ کے کہاں سے پھول پڑا

۹

پاؤں کی طاقت طاق ہوئی تو بند کی آنکھ اور جا پہنچےآرزوؔ اس کو خوب کیا کم راستے میں جو طول پڑا

۱۶ / ۷۰