کلامِ آرزوردیف الف
پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا
دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئیبیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا
حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندااپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا
کون کہے قسمت پلٹی یا مت پلٹی سیلانی کیرستہ کاٹ کے جانے والا آج ادھر بھی بھول پڑا
حال نہیں جینے کے قابل آس نہیں مرنے دیتیایڑیاں رگڑے آخر کب تک خاک پر اک مقتول پڑا
جتنے حسن آباد میں پہنچے ہوش و خرد کھو کر پہنچےمال بھی تو اتنے کا نہیں اب جتنا کچھ محصول پڑا
راہ وفا تھی ٹیڑھی بگڑی تھی ہر گام افتاد نئیپاؤں کسی کا ٹوٹ گیا اور ہاتھ کسی کا جھول پڑا
باغ میں گلچیں ہے نہ ہے مالی بجلی ہے نہ فلک پہ سحابعہد خزاں میں جلا ہے نشیمن آ کے کہاں سے پھول پڑا
پاؤں کی طاقت طاق ہوئی تو بند کی آنکھ اور جا پہنچےآرزوؔ اس کو خوب کیا کم راستے میں جو طول پڑا
۱۶ / ۷۰