کلامِ آرزوردیف الف
کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتاموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا
ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتادل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا
راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نماساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا
کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوحپوچھتا ہوں خود اسی سے کوئے قاتل کا پتا
راہبر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میںچپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا
آئی اک آواز تیر اور نکلی دل سے افپھر نہ قاتل کا نشاں پایا نہ بسمل کا پتا
بانکی چتون والے محشر میں ہزاروں ہیں تو ہوںمل ہی جائے گا کسی صورت سے قاتل کا پتا
اس جگہ بسمل نے دم توڑا جہاں کی خاک تھییوں لگاتے ہیں لگانے والے منزل کا پتا
پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ کیوں بیدل ہو کیوںاور مجھ کو مل گیا کھوئے ہوئے دل کا پتا
موجیں ٹکرائی ہوئیں دشمن بھی نکلیں دوست بھیپیچھے کشتی کو ڈھکیلا دے کے ساحل کا پتا
رہ گیا ہے ٹوٹ کر زخم جگر میں تیر نازاب لگا لینا نہیں دشوار قاتل کا پتا
سوختہ پروانے کشتہ شمع فرش داغ داردے رہے ہیں رات کی گرمئ محفل کا پتا
میں وفا کیش آرزوؔ اور وہ وفا نا آشناپڑ گیا مشکل میں پا کر اپنی مشکل کا پتا
۱۷ / ۷۰