کلامِ آرزوردیف الف

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا

۱

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیابہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا

۲

امین عشق نے دل بے خطر خرید لیایہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا

۳

غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھیجو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا

۴

بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کااگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا

۵

رہ رضا میں ہے خونی کفن سے شان شہیدتو جان بیچ کے رخت سفر خرید لیا

۶

جو دل کہے نہ کہوں وہ جو تو کہے وہ کہوںتو کیا ضمیر بھی اے حیلہ گر خرید لیا

۷

تلاش عیش میں اے آرزوؔ ہے رنج ہی رنجستم نصیب یہ کیا درد سر خرید لیا

۱۸ / ۷۰