کلامِ آرزوردیف الف

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا

۱

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا

۲

آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرابے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا

۳

دل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھادر بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو لگی تیورا کے گرا

۴

جتنی بھی دل کی ضرورت تھی بس اتنی ہی ہمت و طاقت تھیرستے کی کھکھیڑیں جھیل گیا پاس آتے ہی میں چکرا کے گرا

۵

کیا عشق کی منزل بھی ہے کڑی بندھ بندھ کر ہمت ٹوٹ گئیجو ایک قدم چل کر سنبھلا وہ دو قدم آگے جا کے گرا

۶

سلگی ہوئی ہے غم کی بھٹی دل کیوں نہ پگھل کے بنے پانیجو قطرہ آنسو ہو کے بہا لہرا کے چلا تیورا کے گرا

۷

وہ نالہ فلک سے ٹکرایا وہ آرزوؔ اک تارا ٹوٹادشمن کی طرف جو لپکا تھا شعلہ وہ مجھی پر آ کے گرا

۱۹ / ۷۰