کلامِ آرزوردیف ر

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر

۱

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کروا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر

۲

غم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کرہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر

۳

جب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہادے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا تاثیر نہ کر

۴

ہو لاکھ کمان کڑی قاتل کچھ جذب نشانے میں بھی ہےبازو کے بل پہ نظر کر کے اندازۂ زخم تیر نہ کر

۵

اب تک جو نگاہیں سیدھی ہیں ممکن ہے کل یہ پلٹ جائیںجو کرنا ہو کرے ایسے میں کس سوچ میں ہے تاخیر نہ کر

۶

پیمان محبت ختم ہوا اب ذکر سے اس کے فائدہ کیامنہ بکھری کڑیوں کے نہ ملا تیار نئی زنجیر نہ کر

۷

الفت کے عہد محکم میں بودے کاغذ کی ضمانت کیایہ دل سے دل کی باتیں ہیں رکھ یاد فقط تحریر نہ کر

۸

ہر دل ہے حیات کا سرمایہ ہر دل میں جوش محبت کاتو آرزوؔ اور کہے گا کیا بس رہنے بھی دے تقریر نہ کر

۲۰ / ۷۰