کلامِ آرزوردیف ر
تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر
تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کروا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر
غم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کرہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر
جب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہادے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا تاثیر نہ کر
ہو لاکھ کمان کڑی قاتل کچھ جذب نشانے میں بھی ہےبازو کے بل پہ نظر کر کے اندازۂ زخم تیر نہ کر
اب تک جو نگاہیں سیدھی ہیں ممکن ہے کل یہ پلٹ جائیںجو کرنا ہو کرے ایسے میں کس سوچ میں ہے تاخیر نہ کر
پیمان محبت ختم ہوا اب ذکر سے اس کے فائدہ کیامنہ بکھری کڑیوں کے نہ ملا تیار نئی زنجیر نہ کر
الفت کے عہد محکم میں بودے کاغذ کی ضمانت کیایہ دل سے دل کی باتیں ہیں رکھ یاد فقط تحریر نہ کر
ہر دل ہے حیات کا سرمایہ ہر دل میں جوش محبت کاتو آرزوؔ اور کہے گا کیا بس رہنے بھی دے تقریر نہ کر
۲۰ / ۷۰