کلامِ آرزوردیف ی
یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھی
یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھیہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھی
کم ایک قبر سے ہے مجھ کو یہ کل زمیں بھیمر رہنے کا ٹھکانا ملتا نہیں کہیں بھی
طوفان بحر خود ہیں بڑھتی امنگیں دل کیکشتی قرار لے گی ہو کر نہ تہہ نشیں بھی
امکاں کی حد کے اندر کوشش کی حد سے باہردل جس کو ڈھونڈھتا ہے وہ ہے بھی اور نہیں بھی
امید دل کی فطرت ہے بے نیاز تسکیںکم ہو نہ بے قراری آئے اگر یقیں بھی
بیم و رجا سے دل میں دریا کا جزر و مد ہےساحل نواز موجیں آئیں بھی اور گئیں بھی
یہ ملتفت نگاہیں شیوہ وغا ہے جن کاہیں موجب سکوں بھی ہنگامہ آفریں بھی
کر پہلے دل پہ قابو جامے کی پھر خبر لےدامن بچانے والے جاتی ہے آستیں بھی
خطرے میں جان جس سے وہ جان سے بھی پیارارنگیں عذار شعلہ قاتل بھی ہے حسیں بھی
سرگشتۂ محبت دار محن میں پھر کردیکھ آئے گوشہ گوشہ راحت نہیں کہیں بھی
نیرنگیٔ تلون لاحل سا اک معمہسمجھے جو تیرے تیور پڑھ لے خط جبیں بھی
شان غرور ان کی تصویر اک رخی ہےاور آرزو کی نظریں شیدا بھی ہیں حسیں بھی
۴۴ / ۷۰