کلامِ آرزوردیف ے
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے
جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہےناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے
طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑےکشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے
ہے ظرف یہاں کس کا کتنا دل بس ہے اسی کا پیمانہرونا بھی برا ہنسنا بھی برا جو بات ہے وہ مشکل ہی تو ہے
ناخوش ہے تو کیا ہے خوش ہے تو کیا جیسا بھی سہی ہے تو اپنایہ ساتھ نہیں چھٹنے والا بے کس کا سہارا دل ہی تو ہے
ہیں موت کے اس جینے میں مزے غم جس کو نہ ہو وہ کیا سمجھےجب ثابت کرتے بن نہ پڑے جو دعویٰ ہے باطل ہی تو ہے
تھی خضر طریق افتاد یہاں اور سنگ حوادث سنگ نشاںحد راہ طلب کی آ گئی ہاں جاتا ہے کہاں منزل ہی تو ہے
دکھ دے کے الٹے دینا کیا فریاد نتیجہ ہے غم کاجب ٹھیس لگی شیشہ ٹھنکا پتھر نہ سمجھئے دل ہی تو ہے
آپ آرزوؔ اب خاموش رہیں کچھ اچھی بری کھل کر نہ کہیںہیں جتنے منہ اتنی باتیں محفل آخر محفل ہی تو ہے
۴۹ / ۷۰