کلامِ آرزوردیف ے

اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

۱

اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے

۲

جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہےناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے

۳

طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑےکشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے

۴

ہے ظرف یہاں کس کا کتنا دل بس ہے اسی کا پیمانہرونا بھی برا ہنسنا بھی برا جو بات ہے وہ مشکل ہی تو ہے

۵

ناخوش ہے تو کیا ہے خوش ہے تو کیا جیسا بھی سہی ہے تو اپنایہ ساتھ نہیں چھٹنے والا بے کس کا سہارا دل ہی تو ہے

۶

ہیں موت کے اس جینے میں مزے غم جس کو نہ ہو وہ کیا سمجھےجب ثابت کرتے بن نہ پڑے جو دعویٰ ہے باطل ہی تو ہے

۷

تھی خضر طریق افتاد یہاں اور سنگ حوادث سنگ نشاںحد راہ طلب کی آ گئی ہاں جاتا ہے کہاں منزل ہی تو ہے

۸

دکھ دے کے الٹے دینا کیا فریاد نتیجہ ہے غم کاجب ٹھیس لگی شیشہ ٹھنکا پتھر نہ سمجھئے دل ہی تو ہے

۹

آپ آرزوؔ اب خاموش رہیں کچھ اچھی بری کھل کر نہ کہیںہیں جتنے منہ اتنی باتیں محفل آخر محفل ہی تو ہے

۴۹ / ۷۰