کلامِ آرزوردیف ے

جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے

۱

جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہےدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہے

۲

یہ گل کھل رہا ہے وہ مرجھا رہا ہےاثر دو طرح کے ہوا ایک ہی ہے

۳

ہیں اپنی ہی نیت کے پھل تلخ و شیریںوگرنہ مزہ درد کا ایک ہی ہے

۴

بھرے رنگ جتنے بدلتا زمانہمگر عشق کا ماجرا ایک ہی ہے

۵

سبھی شکوے مٹتے ہیں چشم کرم سےمرض ہوں ہزاروں دوا ایک ہی ہے

۶

دو رنگی دنیا سے کیا کام ہم کوکہ فردوس دل کی فضا ایک ہی ہے

۷

بناتے ہیں بے خود سبھی حسن والےٹھکانے الگ راستہ ایک ہی ہے

۸

کوئی سمجھے نغمہ کوئی سمجھے نالہمرے ساز دل کی صدا ایک ہی ہے

۹

وہ دار و رسن ہوں کہ ہوں زہر و خنجربہانے ہزاروں قضا ایک ہی ہے

۱۰

محبت کرے اور ہو بے غرض بھیلو پھر آرزوؔ آپ کا ایک ہی ہے

۵۰ / ۷۰