کلامِ آرزوردیف ے

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے

۱

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہےوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہے

۲

ہمیشہ کو پھولے پھلے گا یہ گلشنابھی دیکھنے کو تو مرجھا رہا ہے

۳

ہر اک شام کہتی ہے پھر صبح ہوگیاندھیرے میں سورج نظر آ رہا ہے

۴

بڑھی جا رہی ہے اگر دھوپ آگےتو سایہ بھی دوڑا چلا جا رہا ہے

۵

ستارے بنیں گے چمک دار آنسویہ رونا ہنسی کی خبر لا رہا ہے

۶

اگر دکھ نہیں ہے نہیں پھر ہے سکھ بھیزمانہ یہ پہچان بتلا رہا ہے

۷

تھکن آرزوؔ کہتی ہے راستے کیکہ آرام بھی ساتھ ساتھ آ رہا ہے

۵۱ / ۷۰