کلامِ آرزوردیف ے
دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے
۱
دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہےسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہے
۲
بن گیا قطرۂ ناچیز ترقی سے گہرذات ہے ایک فقط نام کی تبدیلی ہے
۳
لاگ نے جس کی مجھے پھونکا ہے اندر اندرشمع اس آگ کی اک ہیئت تمثیلی ہے
۴
مل کے مٹی تری چوکھٹ کی ہوا خاک سے پاکجو لکیر اب مرے ماتھے کی ہے چمکیلی ہے
۵
پھر اڑانا ہیں گریباں کے مجھی کو پرزےہاتھ بے کار ابھی تھے کی قبا سی لی ہے
۶
آرزوؔ ہوگا یہ مقتل ہی عزا خانہ بھیشفقی فرش زمیں کا ہے تو چھت نیلی ہے
۵۲ / ۷۰