کلامِ آرزوردیف ے
بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
۱
بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے
۲
یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چورجھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے
۳
ادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفسبڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے
۴
پلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کاابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس مجھے
۵
جو ملتفت ہیں یہ نظریں بدل بھی سکتی ہیںبنا چکا ہے زمانہ ادا شناس مجھے
۵۳ / ۷۰