کلامِ آرزوردیف ے
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
۱
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سے
۲
وبال جاں ہے ایسی زندگی جس میں تلاطم ہومٹا لوں حوصلے پھر توبہ کر لوں گا گناہوں سے
۳
فضا محدود کب ہے اے دل وحشی فلک کیسانلاہٹ ہے نظر کی دیکھتے ہیں جو نگاہوں سے
۴
حقیقت میں نگاہوں سے کوئی منزل نہیں بچتیگزرتے دیکھے ہیں گوشہ نشیں تک شاہراہوں سے
۵
تہی دستان قسمت کو نہ لینا تھا نہ دینا تھاحساب زندگی کیا ہے یہ پوچھو بادشاہوں سے
۶
ہمیں تو جلتے دل کی روشنی میں آگے بڑھنا ہےہٹا دو قمقمے بجلی کے نا ہموار راہوں سے
۷
مرے نالوں کے سب شاکی کوئی ان کو نہیں کہتاکھرچتے رہتے ہیں جو زخم دل خونی نگاہوں سے
۸
پلا دو زہر غم دل کو نہ چھوڑے گر ہوس کاریگنہ وہ ایک اچھا جو بچا لے سو گناہوں سے
۹
ہمیں کچھ آرزوؔ پھیر ان کی باتوں کا سمجھتے ہیںجو حق پوشی میں سچ کو جھوٹ کرتے ہیں گواہوں سے
۵۴ / ۷۰