کلامِ آرزوردیف ے

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے

۱

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئے

۲

نہ سہی خاک کے پتلوں میں صفات ملکیبارے اس بار وفا کے متحمل تو ہوئے

۳

حوصلے دل کے محبت میں جو پستے ہی رہےکر کے ہمت ترے غمزوں کے مقابل تو ہوئے

۴

پرشس غم زدگاں بہر تفنن ہی سہیخیر سے آپ بھی اس بزم میں شامل تو ہوئے

۵

بے اثر آہ سے بھی اتنی تسلی ہے ضرورمنہ تکا کرتے تھے جو وہ کسی قابل تو ہوئے

۶

آن رکھ لی تری شمشیر ادا کی یوں بھیجن کو مرنا نہیں آتا تھا وہ بسمل تو ہوئے

۷

سند صبر سہی پاک دلوں کے ناسورایسے مقتول بھی اک طرح کے قاتل تو ہوئے

۸

رشک دشمن کی تلافی کو یہ پہلو نہیں کمغم جانکاہ محبت کے وہ قاتل تو ہوئے

۹

خود سے دکھ مول لیں یہ کام کچھ آسان نہ تھاکھا کے اک چوٹ مزے درد کے حاصل تو ہوئے

۱۰

خود کشی میں تو خلل آرزوؔ آیا لیکنہاتھ ان کے مری گردن میں حمائل تو ہوئے

۵۵ / ۷۰