کلامِ آرزوردیف ے
پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے
۱
پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والےجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے
۲
موجود دل جگر ہیں دے ابروؤں کو جنبشدہرہ نشانہ بھی ہے دوہری کمان والے
۳
یہ چپکے چپکے باتیں نظریں بچا بچا کررکھتے ہیں آنکھ ہم بھی ہم بھی ہیں کان والے
۴
کہنا پتے پتے کی اور نام پھر ہنسی کاچھریاں نہ بھونک دل میں میٹھی زبان والے
۵
وہ آرزوؔ سر اپنا ٹکرا رہا ہے در سےنیچے تو دیکھ جھک کر اونچے مکان والے
۶۱ / ۷۰