کلامِ آرزوردیف ے
کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے
۱
کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہےچتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے
۲
آنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہےڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے
۳
ہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسولوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے
۴
جب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جیناسانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں لگی ہے
۵
کل کیا کہیں دیکھیں وہ بدلتی ہوئی چتونسو آسرے ٹوٹے ہیں تو اک آس بندھی ہے
۶
میں کچھ نہ کہوں اور وہ جو چاہے کہے جائیںاب روکی ہوئی سانس گلا گھونٹ رہی ہے
۷
کہنے کو تو آتی ہے انہیں ہاں بھی نہیں بھیہو جس پہ بھروسہ نہ وہی ہے نہ یہی ہے
۸
ابھرے ہوے چھالے ہیں ہے روکا ہوا آنسوبس بجھ چکی یہ آگ کہ پانی سے لگی ہے
۶۳ / ۷۰