کلامِ آرزوردیف ے

ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے

۱

ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیے

۲

جلا کے دل کو لپک سے ڈرو نہ شعلے کیزباں دراز ہے لیکن نہیں فغاں کے لیے

۳

اسی چمن میں کہ وسعت ہے جس کی نامحدودنہیں پناہ کی جا ایک آشیاں کے لیے

۴

کیا تھا ضبط نے دعویٰ رازدارئ عشقاٹھا ہے درد کلیجے میں امتحاں کے لیے

۵

کسی کو ڈھونڈے نہ ملتا نظر کی چوٹ کا نیلنہ ہوتا دل میں سویدا اگر نشاں کے لیے

۶

سوائے دل کے جو سرمایۂ دو عالم ہےنہ کچھ یہاں کے لیے ہے نہ کچھ وہاں کے لیے

۷

نہ عشق جرم ہے کوئی نہ دل کی بات ہے رازبرا ہو شرم کا اک قفل ہے زباں کے لیے

۸

خلاف اپنے رہی وضع ساز و برگ چمنقفس بنے ہیں جو تنکے تھے آشیاں کے لیے

۹

لرز رہے ہیں فلک آرزوؔ کہ آہ رساچلی ہے تیغ بکف فتح ہفت خواں کے لیے

۶۴ / ۷۰