کلامِ آرزوردیف ی

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی

۱

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانیسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی

۲

آنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانیپھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی

۳

چاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانیپیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی

۴

دل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانیآگ سے آج نکلتے ہوئے دیکھا پانی

۵

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانیجھوم کر آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

۶

پھیلتی دھوپ کا ہے روپ لڑکپن کا اٹھاندوپہر ڈھلتے ہی اترے گا یہ چڑھتا پانی

۷

ٹکٹکی باندھے وہ تکتے ہیں میں اس گھات میں ہوںکہیں کھانے لگے چکر نہ یہ ٹھہرا پانی

۸

کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی امنگجی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی

۹

ہاتھ جل جائے گا چھالا نہ کلیجے کا چھوؤآگ مٹھی میں دبی ہے نہ سمجھنا پانی

۱۰

رس ہی رس جن میں ہے پھر سیل ذرا سی بھی نہیںمانگتا ہے کہیں ان آنکھوں کا مارا پانی

۱۱

نہ ستا اس کو جو چپ رہ کے بھرے ٹھنڈی سانسیہ ہوا کرتی ہے پتھر کا کلیجہ پانی

۱۲

یہ پسینہ وہی آنسو ہیں جو پی جاتے تھے ہمآرزوؔ لو وہ کھلا بھید وہ ٹوٹا پانی

۳۸ / ۷۰