کلامِ آرزوردیف ی

حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی

۱

حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کیشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کی

۲

شان بستی سے نہیں کم مرے ویرانے کیروح ہر بونڈلے میں ہے کسی دیوانے کی

۳

آمد موسم گل کی ہے خبر دور دگرتازگی چاہئے کچھ ساخت میں پیمانے کی

۴

آئی ہے کاٹ کے میعاد اسیری کی بہارہتکڑی کھل کے گری جاتی ہے دیوانے کی

۵

سرد اے شمع نہ ہو گرمی بازار جمالپھونک دے روح نئی لاش میں پروانے کی

۶

اٹھ کھڑا ہو تو بگولا ہے جو بیٹھے تو غبارخاک ہو کر بھی وہی شان ہے دیوانے کی

۷

آرزوؔ ختم حقیقت پہ ہوا دور مجازڈالی کعبے کی بنا آڑ سے بت خانے کی

۳۹ / ۷۰