کلامِ آرزوردیف ہ
ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ
۱
ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ
۲
جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہسمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ
۳
دو زندگیوں کا ہے چھوٹا سا یہ افسانہلہرایا جہاں شعلہ اندھا ہوا پروانہ
۴
ان رس بھری آنکھوں سے مستی جو ٹپکتی ہےہوتی ہے نظر ساقی دل بنتا ہے پیمانہ
۵
ویرانے میں دیوانہ گھر چھوڑ کے آیا تھاجب ہوگا نہ دیوانہ گھر ڈھونڈھے گا ویرانہ
۶
افسانہ غم دل کا سننے کے نہیں قابلکہہ دیتے ہیں سب ہنس کر دیوانہ ہے دیوانہ
۷
جب عشق کے ماروں کا پرساں ہی نہیں کوئیپھر دونوں برابر ہیں بستی ہو کہ ویرانہ
۸
یہ آگ محبت کی پانی سے نہیں بجھتیپھر شمع سے جا لپٹا جلتا ہوا پروانہ
۳۷ / ۷۰