کلامِ آرزوردیف ی

آج بے آپ ہو گئے ہم بھی

۱

آج بے آپ ہو گئے ہم بھیآپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی

۲

دانے کم تھے دکھوں کی سمرن میںتھوڑے موتی پرو گئے ہم بھی

۳

دیر سے تھے وہ جس کے گھیرے میںاسی جھرمٹ میں کھو گئے ہم بھی

۴

جا کے ڈھونڈا کہاں کہاں نہ تمہیںجب نہ پایا تو کھو گئے ہم بھی

۵

نام جینے کا جاگنا رکھ کرآج بے نیند سو گئے ہم بھی

۶

روئیں گے گر تو جگ ہنسائی ہوکرتے کیا چپ سے ہو گئے ہم بھی

۷

ہائے رے آرزوؔ کی بے آسیآپ بے بس تھے رو گئے ہم بھی

۴۰ / ۷۰