کلامِ آرزوردیف ی

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی

۱

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھیرات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی

۲

قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئےدشت عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی

۳

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پراتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

۴

ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسب مراتب ہیںلو جو لگائے شمع کھڑی ہے رقص میں ہے پروانہ بھی

۵

دونوں جولاں گاہ جنوں ہیں بستی کیا ویرانہ ہےاٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی

۶

غنچے چپ ہیں گل ہیں ہوا پر کس سے کہیے جی کا حالخاک نشیں اک سبزہ ہے سو اپنا بھی بیگانہ بھی

۷

حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہےشمع کا شعلہ جب لہرایا اڑ کے چلا پروانہ بھی

۸

خون ہی کی شرکت وہ نہ کیوں ہو شرکت چیز ہے جھگڑے کیاپنوں سے وہ دیکھ رہا ہوں جو نہ کرے بیگانا بھی

۹

دور مسرت آرزوؔ اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھاہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھوٹ پڑا پیمانہ بھی

۴۱ / ۷۰