کلامِ آرزوردیف ی
اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھیرات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی
قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئےدشت عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی
ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پراتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی
ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسب مراتب ہیںلو جو لگائے شمع کھڑی ہے رقص میں ہے پروانہ بھی
دونوں جولاں گاہ جنوں ہیں بستی کیا ویرانہ ہےاٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی
غنچے چپ ہیں گل ہیں ہوا پر کس سے کہیے جی کا حالخاک نشیں اک سبزہ ہے سو اپنا بھی بیگانہ بھی
حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہےشمع کا شعلہ جب لہرایا اڑ کے چلا پروانہ بھی
خون ہی کی شرکت وہ نہ کیوں ہو شرکت چیز ہے جھگڑے کیاپنوں سے وہ دیکھ رہا ہوں جو نہ کرے بیگانا بھی
دور مسرت آرزوؔ اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھاہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھوٹ پڑا پیمانہ بھی
۴۱ / ۷۰