کلامِ آرزوردیف ی

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

۱

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی

۲

ہے خوشی کا سودا خلش نہانیہے جگر کا چھالا ثمر جوانی

۳

جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانینہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی

۴

ازلی محبت ابدی کہانیکہ پس فنا ہے نئی زندگانی

۵

ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکمجو تری کہانی وہ مری کہانی

۶

وہ اٹھیں گے طوفاں کہ خدا بچائےیہ نئے نظارے یہ بھری جوانی

۷

یہ نگاہ ترچھی یہ بل ابروؤں کاہر ادا ہے دل کش مگر امتحانی

۸

مری کشتئ دل دم آہ و افغاںکبھی بادبانی تو کبھی دہانی

۹

در دل سے پلٹا ہر اک آنے والاتری یاد کیا تھی مری پاسبانی

۱۰

یہ ترا تلون یہ بدلتی چتونعجب اک بلا ہے کہ ہے ناگہانی

۱۱

مری کشت دل پر پئے ژالہ باریہے سپید بادل عقب جوانی

۱۲

کبھی آرزو تھا یہی داغ حسرتمجھے جو بنا دے تری مہربانی

۴۲ / ۷۰