کلامِ آرزوردیف ی

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی

۱

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئیآنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی

۲

کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئےپلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی

۳

کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کالی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

۴

آنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو براایسی تکان دی کی پیالی چھلک گئی

۵

میری سنک بھی بڑھتی ہے ان کی ہنسی کے ساتھچٹکی کلی کہ پاؤں کی بیڑی کھڑک گئی

۴۳ / ۷۰