کلامِ آرزوردیف ہ

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

۱

تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ

۲

بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گیہے کس ہوا میں دل کا سفینہ

۳

ہیں کیا معمہ یہ آگ پانیپیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ

۴

غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاریدل کی تمنا نازک حسینہ

۵

آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھےخشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ

۶

تاریخ دل کی خود نقش دل ہےکھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ

۷

ٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھاڈھا کر عمارت پایا دفینہ

۸

حد خرد سے ذات اس کی برتراونچی ہے منزل نیچا ہے زینہ

۹

تم آرزوؔ ہو تم آرزوؔ ہوپھر کیسی رنجش پھر کیسا کینہ

۳۶ / ۷۰