کلامِ آرزوردیف و
ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو
۱
ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہواور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہو
۲
تقدیر سے ڈرتا ہوں کہ پھر مت نہ پلٹ جائےتم دل کے خریدار اگر ہو تو ابھی ہو
۳
دیدار کو کل کہہ کے قیامت پہ وہ ٹالیںاور شوق کا اصرار اگر ہو تو ابھی ہو
۴
بدلا ہوا ہر عہد نیا لاتا ہے پیغامیہ کیا کہ ہر اقرار اگر ہو تو ابھی ہو
۵
آ لینے تو دو آرزوؔ آزار میں لذتتم نام سے بیزار اگر ہو تو ابھی ہو
۳۵ / ۷۰