کلامِ آرزوردیف ن
مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
۱
مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاںہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں
۲
دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاںچمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں
۳
جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہےوہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں
۴
امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھیملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار کہاں
۵
امیدوار بنانے سے مدعا کیا تھاجب آس تم نے دلا دی تو اب قرار کہاں
۶
ملی ہے اس لیے دو چار دن کی آزادیکہ صرف کرتا ہے دیکھیں یہ اختیار کہاں
۷
یہ شوق لے کے چلا ہے چمن سے شکل نسیمکہ دیکھیں ملتی ہے جاتی ہوئی بہار کہاں
۸
ہے ایک شرط وفا کی وہ قید بے زنجیرسب اختیار ہیں اور کچھ بھی اختیار کہاں
۹
مٹے نشاں پہ نظر کر کے رو جسے چاہےترے ستم کی ہے تربت مرا مزار کہاں
۱۰
تم ایسا عہد شکن آرزوؔ سا ناامیدکہو جو سچ بھی تو آتا ہے اعتبار کہاں
۲۱ / ۷۰