جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیںیاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں
About this couplet
This is couplet 3 of 14 in “جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (کلامِ آرزو).
Read it in the poem۳ / ۱۴