جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

گھر گھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیںامیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں

About this couplet

This is couplet 4 of 14 in “⁨جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۴