کلامِ آرزوردیف ن

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں

۱

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوں

۲

رخنہ اندازئ اندوہ سے غافل نہیں میںہے جگر چاک تو کیا ہونٹ سیے بیٹھا ہوں

۳

کیا کروں دل کو جو لینے نہیں دیتا ہے قرارجو مقدر نے دیا ہے وہ لیے بیٹھا ہوں

۴

التفات اے نگہ ہوشربا اب کیوں ہےپاس جو کچھ تھا وہ پہلے سے دیے بیٹھا ہوں

۵

دل پر کیف سلامت کہ اکیلے میں بھیایک بوتل سے بغل گرم کیے بیٹھا ہوں

۶

آرزوؔ جلتے ہوئے دل کے شرارے ہیں یہ اشکآگ پانی کے کٹوروں میں لیے بیٹھا ہوں

۲۳ / ۷۰