کلامِ آرزوردیف ن

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۱

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۲

بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھرظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۳

آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھےملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۴

وعدہ بھی کیا تو کی نہ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں میں مزاچھوڑو بھی یہ ضد لطف اس میں ہے کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۵

برگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سوناکب تک یہ جدائی کا رونا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۶

دل ملنے پہ بھی پہلو نہ ملا دشمن تو بغل ہی میں ہے چھپاقاتل ہے محبت کی یہ حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۷

یکسوئی دل مرغوب ہمیں بربادئ دل مطلوب تمہیںاس ضد کا ہے اور انجام ہی کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۸

دل سے ہے اگر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیاہے یہ بھی نگاہوں کا دھوکا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۹

سن رکھو قبل عہد وفا قول آرزوئے شیدائی کاجنت بھی ہے دوزخ گر یہ ہوا تم اور کہیں ہم اور کہیں

۲۴ / ۷۰