کلامِ آرزوردیف ن
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں
بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھرظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں
آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھےملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ہم اور کہیں
وعدہ بھی کیا تو کی نہ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں میں مزاچھوڑو بھی یہ ضد لطف اس میں ہے کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
برگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سوناکب تک یہ جدائی کا رونا تم اور کہیں ہم اور کہیں
دل ملنے پہ بھی پہلو نہ ملا دشمن تو بغل ہی میں ہے چھپاقاتل ہے محبت کی یہ حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
یکسوئی دل مرغوب ہمیں بربادئ دل مطلوب تمہیںاس ضد کا ہے اور انجام ہی کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
دل سے ہے اگر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیاہے یہ بھی نگاہوں کا دھوکا تم اور کہیں ہم اور کہیں
سن رکھو قبل عہد وفا قول آرزوئے شیدائی کاجنت بھی ہے دوزخ گر یہ ہوا تم اور کہیں ہم اور کہیں
۲۴ / ۷۰