کلامِ آرزوردیف ن

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں

۱

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیںسب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں

۲

گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کواس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں

۳

جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبااب سنبل و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے اس جا کوئی نہیں

۴

کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں پیش نظراک شمع جلا دے تربت پر جز داغ اب اتنا کوئی نہیں

۵

جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑاتخت اس کا نہ اب ہے تاج اس کا اسکندر و دارا کوئی نہیں

۶

قتال جہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کےیا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں

۷

اے آرزوؔ اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربادی کاجس سے نہ بگولے ہوں پیدا اس طرح کا صحرا کوئی نہیں

۲۵ / ۷۰