کلامِ آرزوردیف ن
قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیںمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں
اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیںدل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں
وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیںگزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں
سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہےشعلے کو بند کر کے پانی بنا رہے ہیں
معنی نہ پوچھ ظالم اس عذر بے گنہ کےاپنے کو اول دے کر تجھ کو بچا رہے ہیں
اے بے خودی کہاں ہے جلدی مری خبر لےبھولے تھے جو بہ مشکل پھر یاد آ رہے ہیں
لیں کام ضبط سے کیا الٹا ہے دل کا پھوڑااتنا ابھر رہا ہے جتنا دبا رہے ہیں
فرقت میں ساز راحت ساماں عذاب کا ہےٹھنڈی ہوا کے جھونکے کیا جی جلا رہے ہیں
ہیں حسن کے کرشمے کیا انقلاب آگیںغم خوار جو تھے کل تک اب خار کھا رہے ہیں
خود ان کی جستجو میں ہم دور بھاگے ورنہوہ کب الگ رہے ہیں وہ کب جدا رہے ہیں
لے لے کے ٹھنڈی سانسیں پوچھو نہ حال دیکھوتم بھید کھولتے ہو اور ہم چھپا رہے ہیں
دیکھ آرزوؔ یہ رونا شانہ ہلا ہلا کرتو آج خواب میں ہے اور وہ جگا رہے ہیں
۲۶ / ۷۰