کلامِ آرزوردیف ن

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

۱

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں

۲

آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں

۳

اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈجیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں

۴

ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دلپردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں

۵

چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیامٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

۶

قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑاہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں

۷

آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیداراور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں

۲۷ / ۷۰