کلامِ آرزوردیف ن
خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں
خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریںوہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں
کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریںدیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں
دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائےپریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں
ہجر کا سناٹا کھو دے گی گہما گہمی نالوں کیرات اکیلے کیوں کر کاٹیں سب کی نیند حرام کریں
میرے برا کہلانے سے تو اچھے بن نہیں سکتے آپبیٹھے بیٹھائے یہ کیا سوجھی آؤ اسے بدنام کریں
دل کی خوشی پابند نہ نکلی رسم و رواج عالم کیپھولوں پر تو چین نہ آئے کانٹوں پر آرام کریں
ایسے ہی کام کیا کرتی ہے گردش ان کی آنکھوں کیشام کو چاہے صبح بنا دیں صبح کو چاہے شام کریں
لا محدود فضا میں پھر کر حد کوئی کیا ڈالے گاپختہ کار جنوں ہم بھی ہیں کیوں یہ خیال خام کریں
نام وفا سے چڑھ ان کو اور آرزوؔ اس خو سے مجبورکیوں کر آخر دل بہلائیں کس وحشی کو رام کریں
۲۸ / ۷۰