کلامِ آرزوردیف ن

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں

۱

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریںوہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں

۲

کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریںدیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں

۳

دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائےپریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں

۴

ہجر کا سناٹا کھو دے گی گہما گہمی نالوں کیرات اکیلے کیوں کر کاٹیں سب کی نیند حرام کریں

۵

میرے برا کہلانے سے تو اچھے بن نہیں سکتے آپبیٹھے بیٹھائے یہ کیا سوجھی آؤ اسے بدنام کریں

۶

دل کی خوشی پابند نہ نکلی رسم و رواج عالم کیپھولوں پر تو چین نہ آئے کانٹوں پر آرام کریں

۷

ایسے ہی کام کیا کرتی ہے گردش ان کی آنکھوں کیشام کو چاہے صبح بنا دیں صبح کو چاہے شام کریں

۸

لا محدود فضا میں پھر کر حد کوئی کیا ڈالے گاپختہ کار جنوں ہم بھی ہیں کیوں یہ خیال خام کریں

۹

نام وفا سے چڑھ ان کو اور آرزوؔ اس خو سے مجبورکیوں کر آخر دل بہلائیں کس وحشی کو رام کریں

۲۸ / ۷۰