کلامِ آرزوردیف ن

ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں

۱

ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میںبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میں

۲

چپ میں نے لگائی تو ہوا اس کا بھی چرچاجو بھید نہ کھلتا ہو وہ کھل جاتا ہے ڈر میں

۳

سورج کا گھمنڈ اور نہیں تارے کے برابرایسی ہی تو باتیں ہیں اس اندھیر نگر میں

۴

وہ ٹل نہیں سکتی جو پہنچنے کی گھڑی ہےچلتا رہے گلیوں میں کہ بیٹھا رہے گھر میں

۵

ہوک اٹھی ادھر جی میں ادھر کوک اٹھی کوئلپوچھے کوئی تو کون ادھر میں نہ ادھر میں

۶

اے آرزوؔ آنکھوں ہی میں کٹ جاتے ہیں دن راتکوئی بھی گھڑی چین کی ہے آٹھ پہر میں

۳۰ / ۷۰