کلامِ آرزوردیف ن

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں

۱

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوںمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں

۲

مٹا دئے ہیں سب احساس اف رے ذوق شرابسرور کم نہ ہو ترشی بھی گر ملا کے پیوں

۳

گنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہدمزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں

۴

یہ تشنگی شہادت کا اقتضا اب ہےکہ آب تیغ ستم زہر میں بجھا کے پیوں

۵

گلے میں لگتی ہے افراط شوق سے پھانسیپڑے نہ حلق میں پھندا تو ڈگڈگا کے پیوں

۶

ہے ایک ساغر دل اور ہزار رنگ کی مےنہ ہو جو گھر میں تو بازار سے منگا کے پیوں

۷

بھروسہ کر کے میں اپنے رحیم پر واعظمزہ تو جب ہے کہ تجھ کو جلا جلا کے پیوں

۸

طلب سے عار ہے اتنی کہ پیاس گر نہ بجھےجگر کے خون کو پانی بنا بنا کے پیوں

۹

نگاہ شوق مری روح کھینچ لیتی ہےنہیں وہ رند کہ ساغر سے منہ لگا کے پیوں

۱۰

یہ شے کہ جس سے نگاہوں کو رشک دل کو سرورچھپا چھپا کے انڈیلوں دکھا دکھا کے پیوں

۱۱

گناہ گار سہی چور میں نہیں زاہدہے یہ بھی کفر کہ کعبے سے منہ پھرا کے پیوں

۱۲

نہ رند تنگ نظر آرزوؔ نہ تنہا خورجو زہر بھی ہو میسر تو میں پلا کے پیوں

۳۲ / ۷۰