کلامِ آرزوردیف ن
یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں
۱
یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروںاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں
۲
ہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکےکوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں
۳
میں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکااگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ادا کروں
۴
جو ہنسا تو صورت زخم دل کہ لہو کے قطرے ٹپک پڑےمیں ستم رسیدہ ہوں آرزوؔ نہ بہاؤں اشک تو کیا کروں
۳۳ / ۷۰