کلامِ اصغرردیف الف

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا

۱

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوامجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہوا

۲

سرشک شوق کا وہ ایک قطرۂ ناچیزاچھالنا تھا کہ اک بحر بے کنار ہوا

۳

ادائے عشق کی تصویر کھنچ گئی پوریوفور جوش سے یوں حسن بے قرار ہوا

۴

بہت لطیف اشارے تھے چشم ساقی کےنہ میں ہوا کبھی بے خود نہ ہشیار ہوا

۵

لیے پھری نگہ شوق سارے عالم میںبہت ہی جلوۂ حسن آج بے قرار ہوا

۶

جہاں بھی میری نگاہوں سے ہو چلا معدومارے بڑا غضب اے چشم سحر کار ہوا

۷

مری نگاہوں نے جھک جھک کے کر دئیے سجدےجہاں جہاں سے تقاضائے حسن یار ہوا

۳ / ۳۹