کلامِ اصغرردیف الف
مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا
مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہوناکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہونا
از ازل تا بہ ابد محو تماشا ہونامیں وہ ہوں جس کو نہ مرنا ہے نہ پیدا ہونا
سارے عالم میں ہے بیتابی و شورش برپاہائے اس شوخ کا ہم شکل تمنا ہونا
فصل گل کیا ہے یہ معراج ہے آب و گل کیمیری رگ رگ کو مبارک رگ سودا ہونا
کہہ کے کچھ لالہ و گل رکھ لیا پردہ میں نےمجھ سے دیکھا نہ گیا حسن کا رسوا ہونا
جلوۂ حسن کو ہے چشم تحیر کی طلبکس کی قسمت میں ہے محروم تماشا ہونا
دہر ہی سے وہ نمایاں بھی ہے پنہاں بھی ہےجیسے صہبا کے لیے پردۂ مینا ہونا
تیری شوخی تیری نیرنگ ادائی کے نثاراک نئی جان ہے تجدید تمنا ہونا
حسن کے ساتھ ہے بیگانہ نگاہی کا مزہقہر ہے قہر مگر عرض تمنا ہونا
اس سے بڑھ کر کوئی بے راہروی کیا ہوگیگام پر شوق کا منزل سے شناسا ہونا
مائل شعر و غزل پھر ہے طبیعت اصغرؔابھی کچھ اور مقدر میں ہے رسوا ہونا
۴ / ۳۹