کلامِ اصغرردیف الف
حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا
۱
حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیاجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیا
۲
ہاتھ میں لے کے جام مے آج وہ مسکرا دیاعقل کو سرد کر دیا روح کو جگمگا دیا
۳
دل پہ لیا ہے داغ عشق کھو کے بہار زندگیاک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا
۴
لذت درد خستگی دولت دامن تہیتوڑ کے سارے حوصلے اب مجھے یہ صلا دیا
۵
کچھ تو کہو یہ کیا ہوا تم بھی تھے ساتھ ساتھ کیاغم میں یہ کیوں سرور تھا درد نے کیوں مزا دیا
۶
اب نہ یہ میری ذات ہے اب نہ یہ کائنات ہےمیں نے نوائے عشق کو ساز سے یوں ملا دیا
۷
عکس جمال یار کا آئنۂ خودی میں ہےیہ غم ہجر کیا دیا مجھ سے مجھے چھپا دیا
۸
حشر میں آفتاب حشر اور وہ شور الاماںاصغرؔ بت پرست نے زلف کا واسطا دیا
۶ / ۳۹